4 ستمبر 2014 - 08:42
اقوام متحدہ کی ایبولاوائرس کو روکنے پر تاکید

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے معاون" يان الياسون" نے بيان ميں کہا کہ وہ ممالک جنہوں نے، ایبولا وائرس کی وجہ سے گيني، سيراليئون اور لائبيريا کے لئے اپني پروازوں اور رابطوں کو بند اور بحري رفت و آمد کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے معاون" يان الياسون" نے بيان ميں کہا کہ وہ ممالک جنہوں نے، ایبولا وائرس کی وجہ سے گيني، سيراليئون اور لائبيريا کے لئے اپني پروازوں اور رابطوں کو بند اور بحري رفت و آمد کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، اس کام کے بجائے یہ کوشش کريں کہ اس بيماري کي انہی مقامات پر روک تھام کي جائے کہ جہاں سے يہ شروع ہو‏ئي ہے. يان الياسون نے بيماري سے متاثرہ ممالک ميں میڈیکل خدمات کي صورتحال کو انتہائي ابتر قرار دیا اور کہا کہ ان ملکوں ميں ضروري سہوليات اور ماہرين کي کمي دور کرنے کے لئے عالمي برادري کے تعاون کي اشد ضرورت ہے. ادھر مغربي افريقہ کے ايبولا وائرس سے متاثرہ ملکوں ميں غذائي اشيا کي کمي اور قيمتوں ميں بے تحاشا اضافے کے سبب ان ملکوں کے غريب عوام کي زندگيوں کو شديد خطرات لاحق ہوگئے ہيں. اقوام متحدہ کے ادارے فاؤ کے ايک اعلي عہديدار " وينسينٹ مارٹن" کا کہنا ہے کہ ايبولا وائرس سے متاثرہ ملکوں کے لوگوں کو اپني آمدني کا اسي فيصد اشيائے خورد و نوش پر خرچ کرنا پڑرہا ہے. " وينسينٹ مارٹن" کا کہنا ہے قيمتوں ميں اضافے کے نتيجے ميں ايبولا وائرس سے متاثرہ ممالک کے عوام کے لئے اشيائے خوردونوش کي خريداري ناممکن ہوجائے گي. عالمي ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق مغربي افريقہ کے ملکوں ميں ايبولا بيماري ميں مبتلا پانچ سو باون افراد اپني جان سے ہاتھ دھو بيٹھے ہيں جبکہ اس مہلک اور جان ليوا بيماري ميں تين ہزار باسٹھ افراد کے مبتلا ہونے کي تصديق کي جاچکي ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲